اقتباسات
اقتباس :- تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کے ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بےکسو ں کے کام آ تے تھے ۔
حوالہ:-یہ اقتباس ہماری اردو کی کتاب کے فاقے کے روزے لیا گیا ہے سبق کے مصنف خواجہ حسن نظامی ہیں۔
وضاحت :- مندرجہ بالا اقتباس مرزا شہ زور اور ان کے خاندان کی بے بسی اور لاچارگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مرزا شہ زور کو ان کی والدہ ، بہن اور بیوی کے ساتھ دربدر کردیا تھا جو کبھی تاج والوں کو بھی منہ نہ لگتے تھے آ ج تقدیر نے کتنا مجبور کردیا ہے جو غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے تھے وہ آج خود ان ہی کے در پر ٹھوکر کھا رہے ہیں ۔
اقتباس :- اگر چہ ہم مٹ گئے ہماری حرارت نہیں مٹی۔ میدان میں نکل کر مرجانا یا مار ڈالنا اور تلوار کے زور سے ڑوٹی لینا ہماری کام ہے صدقی خوری ہمارا شیہ وہ نہیں ۔
حوالہ:-یہ اقتباس ہماری اردو کی کتاب کے فاقے کے روزے لیا گیا ہے سبق کے مصنف خواجہ حسن نظامی ہیں
وضاحت:-مندرجہ بلا اقتباس اس بات کی وضاحت کرتا ہے کے جب گاؤں کے چوہدری کے گھر سے دودھ، میٹھے چاول اور پانچ روپے زکوت کے آئے تو مرزا شہ زور بہت خوش ہوتے ہیں جیسے کھوئی ہوئی بادشاہت مل گئی ہو وہ خوشی خوشی ولدہ کے پاس آکر سارا وقعہ بیان کرتے ہیں تو والدہ کا رنگ غصے سے تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ انداز بدل کر کہتی ہیں کے تف ہے تیری غیرت پر مانا کے ہم سے ہماری بادشاہت چھن گئی لیکن ہم ہیں تو شاہی خاندان کے میدان میں نکل کر جنگ کرنا مرنا اور مار ڈالنا اور بہادری و شجاعت سے روٹی حاصل کرنا ہمارا کام ہے ۔ صادقہ و خیرات کھانا ہمارا طریقہ نہیں۔
Comments
Post a Comment