Skip to main content

فاقے کا روزہ :- سوال/ جواب

                              سوال جواب

 سوال نمبر ١:- نتھن خان کے گانے سے اکتا کر اماں حضرت نے کیا حکم صادرفرمایا؟ 

   جواب       :- مرزا سلیم اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے ہوئے دوستوں سے بے تکلفانہ  باتیں کر رہے تھے کہ زنان خانے سے ایک لونڈی باہر آئی اور آدب               سے عرض کیا حضور! بیگم صاحبہ یاد فرماتی ہے مرزا سلیم فورا  محل میں گئے اور کچھ دیر بعد واپس آپ پر مغمومنظر آے ان کے   دوست نے  عرض کیا کہ خیریت تو ہے تو مرزا نے مسکرا کر کہا کچھ     نہیں بعض اوقات امام حضرت خواہ مخواہ ناراض ہو جاتی ہیں ان کو   شور و غل ناگوار گزرتا ہے  کل شام افطاری کہ وقت تھن خان گویا گا   کر میرا دل بہلارہے تھے اس وقت اماں قرآن شریف پڑھا کرتی ہیں آج   ارشاد ہوا ہے کے رمضان میں گانے بجانے کی محفلیں بند کردی جا ئے    بھلا میں اس تفریحی  عادت ک کیوں کر چھوڑ سکتا ہوں

    سوال  نمبر 2۔ مصاحب نے مرزا صاحب کو کیا مشورہ دیا؟

جواب :۔ مصاحب نے ھاتھ باندھ کر عرض کیا حضور! یہ بھی کوئی پریشان ہو نے کی بات ہے شام کو افطاری سے پہلے جامع مسجد میں تشریف لیجایا کیجیئے عجب بہار ہوتی ہے رنگ بہ رنگ کے آ دمی طرح طرح کے جمگھٹے دیکھنے میں آئیں گے۔ خدا والوں کی بہار دیکھیئے۔

سوال نمبر 3۔ "کل جدید لذیذ" سے کیا مراد ہے ؟

جواب :۔  "کل جدید لذیذ" سے مراد ہر نئی چیز مزےدار معلوم ہوتی ہے

سوال نمبر4- مرزا صاحب کو کیا بات اچی لگی کہ وہ باقاعدہ مسجد آ نے لگے ؟

جواب :۔ مرزا کے دل پر اس دینی چرچے اور شان و شوکت نے بڑا اثر ڈالا اور اب  وہ برابر روزانا مسجد میں آ نے لگے ۔

سوال نمبر 5۔ غدر کی تباہی کے شاہی خاندان پر اثرات بیان  کیجیئے ؟

جواب :۔ ایک وقت ایسا آیا کے دہلی زیر زبر ہوگئ قعلہ برباد ہوگیا امیروں کو پہنچی دےدی گئی ان کی شان اور شوکت تابا اور برباد ہوگئ ۔               

Comments

Popular posts from this blog

سبق :- فاقے کے روزے :- اقتباسات

                  اقتباسات  اقتباس :- تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کے ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بےکسو ں کے کام آ تے تھے ۔  حوالہ :-یہ اقتباس ہماری اردو کی کتاب کے فاقے کے روزے لیا گیا ہے سبق کے مصنف خواجہ حسن نظامی ہیں۔ وضاحت :- مندرجہ بالا اقتباس مرزا شہ زور   اور ان کے خاندان کی بے بسی اور لاچارگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مرزا شہ زور کو ان کی والدہ ، بہن اور بیوی کے ساتھ دربدر کردیا تھا جو کبھی تاج والوں کو بھی منہ نہ لگتے تھے آ ج تقدیر نے کتنا مجبور کردیا ہے جو غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے تھے وہ آج خود ان ہی کے در پر ٹھوکر کھا رہے ہیں ۔

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :-خلاصہ

 سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- خلاصہ مضمون فاقے کا روزہ اردو آداب کے مشہور انشا پرداز  خواجہ حسن نظامی کا پیش کردہ ہے خواجہ حسن نظامی نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے خاندان پر گزرنے والے مصائب اس قدر پر اثر انداز میں کہانیوں کی صورت میں پیش کیے ہیں یہ مضمون بہادر شاہ ظفر کے بھائی مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہ زور کی کہانی ہے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور بہادر شاہ ظفر کو (رنگون) برما بھیج دیا اور  قلعے کی عورتوں سے چادر اور چاردیواری کا حق چھین لیا تو ایسے حالات میں مرزا شہ زور بھی اپنی والدہ بیوی اور ہم عمر بہن کو لے کر قلع سے کوچ کرگئے   پہلے انہوں نے غازی پور کا رخ کیا مگر انگریزوں کی عملداری دیکھ کر کسی طرح چھترپور پہنچے مگر راستے میں ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا گیا چلتے چلتے وہ ایک گاؤں میں  پہنچنے گاؤں کچھ ایسا خوشحال نہیں تھا مگر پھر بھی انہیں پناہ مل گئی  یہاں آ کر بھی انہیں بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا پہلے بیماری اور پھر سیلاب میں تباہی پھرگھر کے سامان اور اناج...

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال

  سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال :-  مضمون فاقے کا روزہ جو کہ خواجہ حسن نظامی کی مشہور کتاب بیگمات کے آنسو سے لیا گیا ہے اس میں 1857  میں ہونے والے غدار میں ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ان کے خاندان کی کہانی ہے۔ جو ان ہی کے خاندان کے نوجوان کی  زبانی اس کتاب میں درج ہے  فاقے کے  روزے میں   مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہزور کی درد ناک کہانی ہے انہوں نے اسی مضمون میں بتایا کہ ہر عروج کو زوال ہے اور یہی قانون قدرت ہے اس لیے کسی فانی چیز کا  غرور خدا کو پسند نہیں بادشاہ فقیر اور فقیر بادشاہ ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ ہر گزرنے والا وقت اور راحت و تکلیف جھوٹی اور بے اثر ہیں مگر اس میں عبرت ضرور ہے-