Skip to main content

سبق نمبر 1 :- قومی اتفاق :- خلاصہ

 خلاصہ :-

مضمون قومی اتفاق سر سید احمد خان کا تحریر کردہ ہے اس میں مصنف نے بتایا ہے پہلے دور میں قوم کا لفظ کسی ایک ملک میں رہنے والے افراد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا لیکن اسلام کی آمد کے بعد ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں کو "حبل المتین" یعنی اللہ کے دین کی مضبوط رسی تھامنے کا حکم دیا ہے جب ایک شخص دل سے کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے تو وہ ایک دوسرے کا روحانی  بھائی قرار پاتا ہے

اسلام  کسی سے یہ نہیں پوچھتا کہ وہ وہ ترک ہے یا تاجیک  یا وہ عرب سے ہے یا پھر پنجاب  یا چین کا باشندہ ہے  بلکہ اسلام صرف ہمیں ایک روحانی رشتے میں جوڑ دیتا ہے سرسید نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام مومنین بھائی بھائی ہیں۔ 

                   اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ‌وَاتَّقُوۡا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ         

ترجمہ :-

 مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں میں صلاح  کروا دو  اور اللہ سے  ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے -

 مگر افسوس کی بات  یہ ہے کہ ہم سب بھائی تو ہیں مگر مثل برادران یوسف کے ہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے انہیں  کنوین میں ڈال دیا تھا ہم ایسے ہی بھائ ہیں جو دوسرے  کی خوشی  کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتے نہ اتفقیوں نے ہماری قوم کو بہت کمزور کر دیا ہے  جس سے ہماری قومی ترقی متاثر ہے سرسید نے قومی اتحاد اور اتفاق پر زور اور دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عقیدے کا معاملہ وہ انسان اور خدا کا معاملہ ہے لوگ عقیدے کو نہیں چھوڑ سکتے ہیں لیکن  ہم جب ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں بے شمار فرقہ ، مذہب اور مسلک کے لوگ ہو تو وہاں مذہب کی بات کیئے بغیر قومی ترقی کی اور قومی اتحاد کی بات کرنی چاہیے مثال کے طور پر اگر کوئی ہسپتال قائم کیا جائے  کسی ایسے علاقے میں جہاں کئیی مذہب کے لوگ رہتے ہو اور وہ اسپتال تمام لوگوں کی خدمت انجام دے اور وہ کسی مذہب اور فرقے کو نہ دیکھے گا اور وه صرف آپ کی خدمات کرے  اس لئے جب قومی ترقی کی بات آئی تو ہمیں ایک مقصد اپنانا چاہیے ملک اور قوم کی ترقی کے لیے ہمیں اپنا اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے اس مضمون میں سرسید نے تنبیہ کی ہے کہ قومی اتحاد اور بھلائی کے لئے مذہبی  اختلاف   پس پشت ڈال دیجئے کیونکہ اتحاد ہی قوموں کی ترقی کی بنیاد ہے.

                                قومی اتفاق

  

Comments

Popular posts from this blog

سبق :- فاقے کے روزے :- اقتباسات

                  اقتباسات  اقتباس :- تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کے ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بےکسو ں کے کام آ تے تھے ۔  حوالہ :-یہ اقتباس ہماری اردو کی کتاب کے فاقے کے روزے لیا گیا ہے سبق کے مصنف خواجہ حسن نظامی ہیں۔ وضاحت :- مندرجہ بالا اقتباس مرزا شہ زور   اور ان کے خاندان کی بے بسی اور لاچارگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مرزا شہ زور کو ان کی والدہ ، بہن اور بیوی کے ساتھ دربدر کردیا تھا جو کبھی تاج والوں کو بھی منہ نہ لگتے تھے آ ج تقدیر نے کتنا مجبور کردیا ہے جو غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے تھے وہ آج خود ان ہی کے در پر ٹھوکر کھا رہے ہیں ۔

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :-خلاصہ

 سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- خلاصہ مضمون فاقے کا روزہ اردو آداب کے مشہور انشا پرداز  خواجہ حسن نظامی کا پیش کردہ ہے خواجہ حسن نظامی نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے خاندان پر گزرنے والے مصائب اس قدر پر اثر انداز میں کہانیوں کی صورت میں پیش کیے ہیں یہ مضمون بہادر شاہ ظفر کے بھائی مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہ زور کی کہانی ہے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور بہادر شاہ ظفر کو (رنگون) برما بھیج دیا اور  قلعے کی عورتوں سے چادر اور چاردیواری کا حق چھین لیا تو ایسے حالات میں مرزا شہ زور بھی اپنی والدہ بیوی اور ہم عمر بہن کو لے کر قلع سے کوچ کرگئے   پہلے انہوں نے غازی پور کا رخ کیا مگر انگریزوں کی عملداری دیکھ کر کسی طرح چھترپور پہنچے مگر راستے میں ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا گیا چلتے چلتے وہ ایک گاؤں میں  پہنچنے گاؤں کچھ ایسا خوشحال نہیں تھا مگر پھر بھی انہیں پناہ مل گئی  یہاں آ کر بھی انہیں بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا پہلے بیماری اور پھر سیلاب میں تباہی پھرگھر کے سامان اور اناج...

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال

  سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال :-  مضمون فاقے کا روزہ جو کہ خواجہ حسن نظامی کی مشہور کتاب بیگمات کے آنسو سے لیا گیا ہے اس میں 1857  میں ہونے والے غدار میں ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ان کے خاندان کی کہانی ہے۔ جو ان ہی کے خاندان کے نوجوان کی  زبانی اس کتاب میں درج ہے  فاقے کے  روزے میں   مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہزور کی درد ناک کہانی ہے انہوں نے اسی مضمون میں بتایا کہ ہر عروج کو زوال ہے اور یہی قانون قدرت ہے اس لیے کسی فانی چیز کا  غرور خدا کو پسند نہیں بادشاہ فقیر اور فقیر بادشاہ ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ ہر گزرنے والا وقت اور راحت و تکلیف جھوٹی اور بے اثر ہیں مگر اس میں عبرت ضرور ہے-