Skip to main content

سبق نمبر 1 :- قومی اتفاق سوال/جواب

                               سوال/جواب

  سوال نمبر۱:- اسلام نے تفرقہ قومی کو میٹا کر کون سا رشتا قائم کیا ؟

    جواب      :- جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیگ کا اغاز کیا تو "حبل المتین" (دین کی مضبوط    رسی ) میں تمام انسانوں کو پرودیا کونک ایک  شخص لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ یعنی  کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے تو وہ ایک دوسرے کا روحانی بھائی قرار پتا ہے اس طرح اسلا م نے  تفرقہ قومی کو میٹا کر وفائی رشتہ یعنی اپس میں ایک قومی رشتہ یعنی آپس میں ایک قومی رشتہ قائم کردیا .  سوال نمبر٢:- سرسید کے نزدیک قومی ترقی کا اولین مرحلہ کیا ہے ؟

    جواب      :- سرسید کے نزدیک قومی ترقی کا اولین مرحلہ یہ ہے کے ہم سب  محبت سے اپنے درمیان کی عداوت اور اتفاق کو اتحاد اور بھائی چارے سے قومی یکجہتی میں  تبدیل کردے کیوںک اس ہی کی بدولت ہم ترقی کرسکتے ہیں -

 سوال نمبر٣:- یکتائی و یک جہتی سے سرسید کی کیا مراد ہے ؟ 

    جواب      :- سرسید کی نزدیک قومی اتحاد اس وقت قائم ہوسکتا ہے جب ہم مذہب اور عقیدے کے حوالے سے ایک دوسرے سے عداوت اور اتفاق رکھنا چھوڑ دے ملک اور قوم کی ترقی کے لیے ایک نکتے کے متفق ہو جائے اپس میں سچی محبت اور دستی  رکھے مسلمانوں کی تاریخ یہی یکتائی ہے کہ جب بھی قومی اتفاق رہا برقرار قومین  ترقی کرتی گئی-

 سوال نمبر 4:- شخص اتفاق اور قومی اتفاقِ میں کیا فرق ہے ؟

جواب :- اگر کوئی شخص ذاتی غرض کو مدنظر رکھ کر کوئی کام کرتا ہے اور قومی بھلائی کے پردے سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے  تو اس عمل کو "شخص اتفاق" کہا جائے گا۔جب کہ اگر یہی کام ذاتی غرض کے بجائے ،لوگوں کی اتفاقی رائے اور بھلائی کے لئے ہو   تو اس عمل کو قومی اتفاقِ کہیں گیں ۔

   سوال نمبر 5:- پرانے زمانے میں لفظ قوم سے کیا مراد ہے ؟ 

    جواب  :- پرانے زمانے میں  "قوم" کا لفظ کسی ایک ملک میں رہنے والے لوگ ،ایک علاقے میں رہنے والے لوگ یا خاندان کے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔    

Comments

Popular posts from this blog

سبق :- فاقے کے روزے :- اقتباسات

                  اقتباسات  اقتباس :- تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کے ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بےکسو ں کے کام آ تے تھے ۔  حوالہ :-یہ اقتباس ہماری اردو کی کتاب کے فاقے کے روزے لیا گیا ہے سبق کے مصنف خواجہ حسن نظامی ہیں۔ وضاحت :- مندرجہ بالا اقتباس مرزا شہ زور   اور ان کے خاندان کی بے بسی اور لاچارگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مرزا شہ زور کو ان کی والدہ ، بہن اور بیوی کے ساتھ دربدر کردیا تھا جو کبھی تاج والوں کو بھی منہ نہ لگتے تھے آ ج تقدیر نے کتنا مجبور کردیا ہے جو غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے تھے وہ آج خود ان ہی کے در پر ٹھوکر کھا رہے ہیں ۔

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :-خلاصہ

 سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- خلاصہ مضمون فاقے کا روزہ اردو آداب کے مشہور انشا پرداز  خواجہ حسن نظامی کا پیش کردہ ہے خواجہ حسن نظامی نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے خاندان پر گزرنے والے مصائب اس قدر پر اثر انداز میں کہانیوں کی صورت میں پیش کیے ہیں یہ مضمون بہادر شاہ ظفر کے بھائی مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہ زور کی کہانی ہے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور بہادر شاہ ظفر کو (رنگون) برما بھیج دیا اور  قلعے کی عورتوں سے چادر اور چاردیواری کا حق چھین لیا تو ایسے حالات میں مرزا شہ زور بھی اپنی والدہ بیوی اور ہم عمر بہن کو لے کر قلع سے کوچ کرگئے   پہلے انہوں نے غازی پور کا رخ کیا مگر انگریزوں کی عملداری دیکھ کر کسی طرح چھترپور پہنچے مگر راستے میں ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا گیا چلتے چلتے وہ ایک گاؤں میں  پہنچنے گاؤں کچھ ایسا خوشحال نہیں تھا مگر پھر بھی انہیں پناہ مل گئی  یہاں آ کر بھی انہیں بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا پہلے بیماری اور پھر سیلاب میں تباہی پھرگھر کے سامان اور اناج...

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال

  سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال :-  مضمون فاقے کا روزہ جو کہ خواجہ حسن نظامی کی مشہور کتاب بیگمات کے آنسو سے لیا گیا ہے اس میں 1857  میں ہونے والے غدار میں ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ان کے خاندان کی کہانی ہے۔ جو ان ہی کے خاندان کے نوجوان کی  زبانی اس کتاب میں درج ہے  فاقے کے  روزے میں   مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہزور کی درد ناک کہانی ہے انہوں نے اسی مضمون میں بتایا کہ ہر عروج کو زوال ہے اور یہی قانون قدرت ہے اس لیے کسی فانی چیز کا  غرور خدا کو پسند نہیں بادشاہ فقیر اور فقیر بادشاہ ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ ہر گزرنے والا وقت اور راحت و تکلیف جھوٹی اور بے اثر ہیں مگر اس میں عبرت ضرور ہے-