Skip to main content

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :-خلاصہ

 سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- خلاصہ

مضمون فاقے کا روزہ اردو آداب کے مشہور انشا پرداز  خواجہ حسن نظامی کا پیش کردہ ہے خواجہ حسن نظامی نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے خاندان پر گزرنے والے مصائب اس قدر پر اثر انداز میں کہانیوں کی صورت میں پیش کیے ہیں

یہ مضمون بہادر شاہ ظفر کے بھائی مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہ زور کی کہانی ہے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور بہادر شاہ ظفر کو (رنگون) برما بھیج دیا اور  قلعےکی عورتوں سے چادر اور چاردیواری کا حق چھین لیا تو ایسے حالات میں مرزا شہ زور بھی اپنی والدہ بیوی اور ہم عمر بہن کو لے کر قلع سے کوچ کرگئے  پہلے انہوں نے غازی پور کا رخ کیا مگر انگریزوں کی عملداری دیکھ کر کسی طرح چھترپور پہنچے مگر راستے میں ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا گیا چلتے چلتے وہ ایک گاؤں میں  پہنچنے گاؤں کچھ ایسا خوشحال نہیں تھا مگر پھر بھی انہیں پناہ مل گئی  یہاں آ کر بھی انہیں بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا پہلے بیماری اور پھر سیلاب میں تباہی پھرگھر کے سامان اور اناج سے ہاتھ دھونا پڑا گاؤں کے چوہدری نے کچھ خیال کرتے ہوئے آٹا بھیج دیا مگر چند دن بعد ہی رمضان شریف شروع ہوگئے ابھی چار پانچ دن گزرے تھے کہ اٹا ختم ہو گیا اور پھر نوبت فاقوں تک پہنچ گئی چھوٹی بہن کو جھوٹی تسلی دے کر سلا دیا مگر بھوک میں نیند کہاں آتی ہے اسی طرح سوتے جاگتے سحری کا وقت آگیا والدہ نے تہجد کی نماز پڑھی اور جس دردناک الفاظ میں دعا مانگی کا بیان کرنا مشکل ہے دوسرا دن بھی یو ہی گزرا فاقے میں روزہ پے روزہ رکھ لیا شام کے وقت چودھری صاحب کا ملازم دودھ اور میٹھے چاول لے کر آیا اور ساتھ ہی پانچ روپے زکوۃ کے پیسے بھی لایا اس وقت مرزا شہہ زور کو ایسا لگا  جیسے گویا بادشاہت مل گئی ہوں مگر والدہ صاحبہ کو غصہ آگیا اور چنگیزی لہجے میں کہنے لگی تف ہو تیری غیرت پرخیرات اور زکوٰۃ لے کر آیا ہے اور خوش ہوتا ہے  میدان میں نکل کر مرجانا یا مار ڈالنا اور زور بازو سے  روٹی لانا ہمارا کام ہے صدقہ خوری ہمارا شیوه نہیں والدہ کے الفاظ سن کر مرزا شہہ زور شرم سے پانی پانی ہو گئے چاہا سب کچھ واپس کر آئے مگر والدہ صاحبہ نے یہ کہہ کر روک دیا کے خدا کو یہی منظور ہے تو ہم کیا کریں سب کو سہنا پڑے گا روزہ کھلنے کے بعد ہم سب نے کھانا کھایا پانچ روپے کا آٹا منگوایا اس طرح رمضان کا مہینہ بغیر پاکی کے گزر گیا حالات کچھ بہتر ہوئے تو دہلی واپس آگئے والدہ کے انتقال کے بعد بہن کی شادی کر دی انگریز حکومت نے 5 روپے ماہ اور پنشن مقرر کردی جس پر زندگی گزارنے لگیں یہ واقعہ مصنف نے انہیں دن و قلم بند کیا تھا 


Comments

Popular posts from this blog

سبق :- فاقے کے روزے :- اقتباسات

                  اقتباسات  اقتباس :- تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کے ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بےکسو ں کے کام آ تے تھے ۔  حوالہ :-یہ اقتباس ہماری اردو کی کتاب کے فاقے کے روزے لیا گیا ہے سبق کے مصنف خواجہ حسن نظامی ہیں۔ وضاحت :- مندرجہ بالا اقتباس مرزا شہ زور   اور ان کے خاندان کی بے بسی اور لاچارگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مرزا شہ زور کو ان کی والدہ ، بہن اور بیوی کے ساتھ دربدر کردیا تھا جو کبھی تاج والوں کو بھی منہ نہ لگتے تھے آ ج تقدیر نے کتنا مجبور کردیا ہے جو غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے تھے وہ آج خود ان ہی کے در پر ٹھوکر کھا رہے ہیں ۔

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال

  سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال :-  مضمون فاقے کا روزہ جو کہ خواجہ حسن نظامی کی مشہور کتاب بیگمات کے آنسو سے لیا گیا ہے اس میں 1857  میں ہونے والے غدار میں ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ان کے خاندان کی کہانی ہے۔ جو ان ہی کے خاندان کے نوجوان کی  زبانی اس کتاب میں درج ہے  فاقے کے  روزے میں   مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہزور کی درد ناک کہانی ہے انہوں نے اسی مضمون میں بتایا کہ ہر عروج کو زوال ہے اور یہی قانون قدرت ہے اس لیے کسی فانی چیز کا  غرور خدا کو پسند نہیں بادشاہ فقیر اور فقیر بادشاہ ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ ہر گزرنے والا وقت اور راحت و تکلیف جھوٹی اور بے اثر ہیں مگر اس میں عبرت ضرور ہے-