Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2022

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :-خلاصہ

 سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- خلاصہ مضمون فاقے کا روزہ اردو آداب کے مشہور انشا پرداز  خواجہ حسن نظامی کا پیش کردہ ہے خواجہ حسن نظامی نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے خاندان پر گزرنے والے مصائب اس قدر پر اثر انداز میں کہانیوں کی صورت میں پیش کیے ہیں یہ مضمون بہادر شاہ ظفر کے بھائی مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہ زور کی کہانی ہے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور بہادر شاہ ظفر کو (رنگون) برما بھیج دیا اور  قلعے کی عورتوں سے چادر اور چاردیواری کا حق چھین لیا تو ایسے حالات میں مرزا شہ زور بھی اپنی والدہ بیوی اور ہم عمر بہن کو لے کر قلع سے کوچ کرگئے   پہلے انہوں نے غازی پور کا رخ کیا مگر انگریزوں کی عملداری دیکھ کر کسی طرح چھترپور پہنچے مگر راستے میں ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا گیا چلتے چلتے وہ ایک گاؤں میں  پہنچنے گاؤں کچھ ایسا خوشحال نہیں تھا مگر پھر بھی انہیں پناہ مل گئی  یہاں آ کر بھی انہیں بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا پہلے بیماری اور پھر سیلاب میں تباہی پھرگھر کے سامان اور اناج...

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال

  سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ :- مرکزی خیال :-  مضمون فاقے کا روزہ جو کہ خواجہ حسن نظامی کی مشہور کتاب بیگمات کے آنسو سے لیا گیا ہے اس میں 1857  میں ہونے والے غدار میں ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ان کے خاندان کی کہانی ہے۔ جو ان ہی کے خاندان کے نوجوان کی  زبانی اس کتاب میں درج ہے  فاقے کے  روزے میں   مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہزور کی درد ناک کہانی ہے انہوں نے اسی مضمون میں بتایا کہ ہر عروج کو زوال ہے اور یہی قانون قدرت ہے اس لیے کسی فانی چیز کا  غرور خدا کو پسند نہیں بادشاہ فقیر اور فقیر بادشاہ ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ ہر گزرنے والا وقت اور راحت و تکلیف جھوٹی اور بے اثر ہیں مگر اس میں عبرت ضرور ہے-

سبق نمبر 2 :- فاقے کا روزہ مصنف کا تعارف

     مصنف کا تعارف( خواجہ حسن نظامی):-      خواجہ حسن نظامی 6 جنوری1863 کو دہلی میں پیدا ہوئے  ان کے والد خواجہ نظام الدین اولیاء کے خاص مریدین میں سے تھے اس لئے خواجہ حسن نظامی کی تربیت بھی صوفی اور مذہبی ماحول میں ہوئی   خواجہ نظامی منفرد انشاءپرداز, سیاسی لیڈر بے باک مقرر اور خطیب بھی تھے  اردو زبان میں اشتہار نویسی کا آغاز انہوں نے ہی کیا اردو زبان و ادب میں ان کا مرتبہ بہت بلند ہے اردو زبان کی تاریخ ان کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۱۹۲۵ میں ایک اسکول بھی قائم کیا ان کا اپنا اخبار توحید کے نام سے شائع ہوا ان کو مصور فطرت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہےآپ کا انتقال دہلی میں نانو 1955 میں ہوا اور درگاہ نظام الدین کے احاطے میں دفن ہیں -  تصانیف :-         آپ کی مشہور تصانیف میں غدر دہلی کے افسانے , سیپارہ دل ,  دہلی کی آخری شمع اوربیگمات کے آنسو شامل ہیں                            

سبق نمبر 1 :- قومی اتفاق :- خلاصہ

 خلاصہ :- مضمون قومی اتفاق سر سید احمد خان کا تحریر کردہ ہے اس میں مصنف نے بتایا ہے پہلے دور میں قوم کا لفظ کسی ایک ملک میں رہنے والے افراد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا لیکن اسلام کی آمد کے بعد ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں کو "حبل المتین" یعنی اللہ کے دین کی مضبوط رسی تھامنے کا حکم دیا ہے جب ایک شخص دل سے کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے تو وہ ایک دوسرے کا روحانی  بھائی قرار پاتا ہے

سبق نمبر1 :- قومی اتفاق مصنف کا تعارف

 مصنف کا تعارف (سرسید احمد خان) :- سرسید احمد خان کو جدید اردو نثر کا بانی کہا جاتا ہے آپ بیک وقت ادیب مورخ، صحافی، نثر نگار، ماہر تعلیم ،اور مصلح قوم کی حیثیت کے علاوہ مسلمانوں کے بڑے رہنما جانے جاتے ہیں . آپ 17 اکتوبر  ۱۸۱۷ کو دہلی میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام میرمحمد متقی تھا آپ  نے  ابتدائ تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اپ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں آپ نے  بہت سے انگریزوں کی جان بچائی جس کی وجسے آپ کو سر کا  خطاب ملا 1877 میں سرسید نے علی گڑھ کالج قائم کیا یا آپ کا انتقال ۲۷ مارچ 1998  میں ہوا تصانیف :- آپ کی مشہور تصانیف میں آثار الصنادید ,سفرنامہ مسافران لندن, تاریخ سرکشی بجنور ,اسباب بغاوت ہند, خطبات احمدیہ شامل ہیں.                                      قومی اتفاق                                                 

سبق نمبر 1 :- قومی اتفاق سوال/جواب

                               سوال/جواب   سوال نمبر۱:- اسلام نے تفرقہ قومی کو میٹا کر کون سا رشتا قائم کیا ؟     جواب      :- جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیگ کا اغاز کیا تو "حبل المتین" (دین کی مضبوط    رسی ) میں تمام انسانوں کو پرودیا کونک ایک  شخص لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ یعنی  کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے تو وہ ایک دوسرے کا روحانی بھائی قرار پتا ہے اس طرح اسلا م نے  تفرقہ قومی کو میٹا کر وفائی رشتہ یعنی اپس میں ایک قومی رشتہ یعنی آپس میں ایک قومی رشتہ قائم کردیا .

مصنف کا تعارف (احساں دانش) نظم نواے سروش

مصنف کا تعارف (احساں دانش) :- 1914 میں کاندھلا (بھارت) میں پیدا ہوئے ان کا پیدائشی۔    نام احسان حق تھا اردو کے مقبول شاعر گزرے ہیں ان کی شاعری قدرت کے اس ماحول کی عقاسی کرتی ہے جس میں وہ شریک حال تھے وہ بھی مزدور تھے اس لئیے مزدور اور کمزور تابقے کے لوگوں کے مسائل اور دکھ درد کو محسوس کرتے تھے انکی ساری شاعری میں ہمیں فتری جذبات ، احساسات اور نفسیات کے ساتھ ساتھ انسانیت سے حمدردی اور مدد کی مثال خوبصورت انداز میں نظرآتی ہیں یہ ہی وجہ ہے کے انہیں آل اداب نے "شاعرمزدور "  کا لقب اتا کیا اور انہیں تمغائے امتیاز سے بھی نوازہ گیا اپ کا انتقال 1982 مارچ لاہور میں ہوا اپ کی مشہور تصنیف :- (بک سے دیکھ کر لکھو )