اقتباسات اقتباس :- تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کے ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بےکسو ں کے کام آ تے تھے ۔ حوالہ :-یہ اقتباس ہماری اردو کی کتاب کے فاقے کے روزے لیا گیا ہے سبق کے مصنف خواجہ حسن نظامی ہیں۔ وضاحت :- مندرجہ بالا اقتباس مرزا شہ زور اور ان کے خاندان کی بے بسی اور لاچارگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مرزا شہ زور کو ان کی والدہ ، بہن اور بیوی کے ساتھ دربدر کردیا تھا جو کبھی تاج والوں کو بھی منہ نہ لگتے تھے آ ج تقدیر نے کتنا مجبور کردیا ہے جو غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے تھے وہ آج خود ان ہی کے در پر ٹھوکر کھا رہے ہیں ۔
سوال جواب سوال نمبر ١:- نتھن خان کے گانے سے اکتا کر اماں حضرت نے کیا حکم صادرف رمایا؟ جواب :- مرزا سلیم اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے ہوئے دوستوں سے بے تکلفانہ باتیں کر رہے تھے کہ زنان خانے سے ایک لونڈی باہر آئی اور آدب سے عرض کیا حضور! بیگم صاحبہ یاد فرماتی ہے مرزا سلیم فورا محل میں گئے اور کچھ دیر بعد واپس آپ پر مغمومنظر آے ان کے دوست نے عرض کیا کہ خیریت تو ہے تو مرزا نے مسکرا کر کہا کچھ نہیں بعض اوقات امام حضرت خواہ مخواہ ناراض ہو جاتی ہیں ان کو شور و غل ناگوار گزرتا ہے کل شام افطاری کہ وقت تھن خان گویا گا کر میرا دل بہلارہے تھے اس وقت اماں قرآن شریف پڑھا کرتی ہیں آج ارشاد ہوا ہے کے رمضان میں گانے بجانے کی محفلیں بند کردی جا ئے ...